15 جولائی 2024 - 16:37
ویڈیو | فلسطینی مظلوم پورے فلسطین میں میں نسل پرستی کا شکار ہیں۔ نوآم چومسکی

نوآم چامسکی: اچھا تو یہ احتجاجی مظاہرے اہم ہیں؛ نیتن یاہو کی دائیں بازو کی حکومت، یہودیوں کے لئے اسرائیل کی جمہوری کارکردگی کو تباہ کر رہی ہے۔ یہ جمہوری نظام اسرائیلی یہودیوں کے لئے اچھی طرح کام کرتا ہے لیکن اسرائیلی ریاست میں فلسطینی دوسرے درجے کے شہری سمجھے جاتے ہیں۔

نوآم چامسکی: اچھا تو یہ احتجاجی مظاہرے اہم ہیں؛ نیتن یاہو کی دائیں بازو کی حکومت، یہودیوں کے لئے اسرائیل کی جمہوری کارکردگی کو تباہ کر رہی ہے۔ یہ جمہوری نظام اسرائیلی یہودیوں کے لئے اچھی طرح کام کرتا ہے لیکن اسرائیلی ریاست میں فلسطینی دوسرے درجے کے شہری سمجھے جاتے ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، امریکہ کے یہودی امریکی ماہر لسانیات، فلسفی، مؤرخ، سیاسی مصنف اور لیکچرر نوآم چومسکی (Noam Chomsky) کی ویڈیو نشر ہوئی ہے جس میں ان سے پوچھا جاتا ہے: اسرائیل میں حالیہ واقعات اور احتجاجی مظاہروں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ ان کا جواب دیکھئے:

یہ احتجاجی مظاہرے اہم ہیں؛ نیتن یاہو کی دائیں بازو کی حکومت، یہودیوں کے لئے اسرائیل کی جمہوری کارکردگی کو تباہ کر رہی ہے۔ یہ جمہوری نظام اسرائیلی یہودیوں کے لئے اچھی طرح کام کرتا ہے لیکن اسرائیلی ریاست میں فلسطینی دوسرے درجے کے شہری سمجھے جاتے ہیں۔

فلسطینی مظلوم تمام تر مقبوضہ اراضی میں ایک قسم کی نسل پرستی کا شکار ہیں۔

البتہ یہ رویہ نسلی امتیاز سے بہت بدتر ہے، میں کبھی بھی اس کو نسلی امتیاز کا نام نہیں دے سکا ہوں کیونکہ یہ رویہ نسلی امتیاز سے کہیں بدتر ہے۔

جنوبی افریقہ کا نظام سیاہ فاموں کے سہارے قائم تھا، اور جنوبی افریقہ کی 85 فیصد محنت کش طبقے کا تعلق سیاہ فام اکثریت سے تھا اور حکومت کو ان کی ضرورت تھی۔ لیکن اسرائیل فلسطینیوں کو اس نگاہ سے نہیں دیکھتا بلکہ وہ تو ان کی نابودی کے لئے کوشاں ہے۔

میرا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ اسرائیل اس وقت کر رہا ہے وہ فلسطین میں "پہلے درجے کے شہریوں کے حق میں، ایک قسم کا جدید-کلاسیکی استعمار ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110